Friday, February 24, 2012

قید اور آزادی


کہتے ہیں بغداد میں ایک متمول تاجر رہتا تھا۔۔ اس تاجر نے ایک طوطا پالا ہوا تھا جس سے یہ بہت محبت کرتا۔۔ طوطے کو بھی اپنے مالک سے بہت محبت تھی ۔۔لیکن غم صرف ایک تھا اور وہ غم تھا پنجرے کی قید۔۔۔ ایک دن تاجر کہیں جا رہا تھا ۔۔اور راستے میں طوطے کا آبائی علاقہ بھی آتا تھا۔۔وہی علاقہ جہان سے اس طوطے کو پکڑا گیا تھا۔۔
سوداگر نے طوطے سے پوچھا کہ وہ اس کے علاقے سے گزرے گا۔۔اگر طوطا چاہے تو وہ کوئی پیغام اپنے عزیز رشتہ دارون تک۔۔ اس کے ہاتھ بھیج سکتا ہے۔۔
طوطے نے سوداگر کی اس پیشکش کو  قبول کرتے ہوئے سوداگر سے کہا ۔۔۔ مالک میرے علاقے میں جا کر میرا نام لے کر میرے عزیزوں کو آواز دینا۔۔ جب وہ آ جائیں تو انھیں بتانا کہ میں آپ کے پاس بہت خوش ہوں ۔۔۔لیکن۔۔ صرف ایک تکلیف ہے۔۔ اور وہ تکلیف ہے پنجرے کی قید۔۔۔ پھر میرے عزیزوں کو میرے لئے دعا کا کہنا۔۔۔ اور جو پیغام وہ میرے لئے دیں وہ مجھے آ کر بتا دینا۔۔۔
سوداگر نے طوطے سے پیغام پہنچانے کا وعدہ کیا ۔۔ اور رخت سفر باندھا۔۔۔
جس روز وہ اپنے پیارے طوطے کے علاقے میں پہنچا اس دن طوطے کے بتائے طریقے کے مطابق طوطے کا نام لے کر اس کے عزیزوں کو آواز دی۔۔
کچھ ہی دیر میں درجنوں طوطے قریب کے درختوں پر آ کر بیٹھ گئے۔۔ سوداگر نے طوطے کا پورا پیغام  سنایا ۔۔ طوطے کے لئےدعا کی درخواست کی۔۔۔  ابھی وہ بات پوری کر ہی رہا تھا کہ یکا یک تمام طوطے اپنی ڈالیون سے گرنا شروع ہو گئے۔۔ اور کچھ ہی دیر میں تمام طوطے گر کے مر گئے۔۔۔
سوداگر کو بہت افسوس ہوا۔۔خیر کام ختم کیا اور واپس بغداد پہنچا۔۔۔ طوطے نے جب پوچھا کہ میرے رشتہ دارون نے کیا نصیحت کی ۔۔ تو  سوداگر  نے پورا واقعہ بیان کر دیا۔۔۔
طوطے نے واقعہ سنا اور غش کھا کر گرا اور وہ بھی جیسے مر گیا۔۔
تاجر  کو بہت افسوس ہوا ۔۔مگر کیا کر سکتا تھا۔۔ مردہ طوطے کو اٹھایا اور باہر پھینک دیا۔۔۔
پھینکنے کی دیر تھی ۔۔طوطا اڑا ۔۔اور اڑ  کر سامنے کی دیوار پر بیٹھ گیا۔۔۔ تاجر نے حیرت سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے۔۔
طوطا بولا ۔۔۔گو کہ آپ نے ہمیشہ میرا خیال رکھا اور مجھے خوش رکھنے کی کوشش کی ۔۔لیکن میں قید تھا۔۔۔  اور اس قید نے  مجھے اندر سے ختم کر دیا تھا۔۔میں اپنی نہیں بلکہ آپ کی مرضی کی زندگی جی رہا تھا۔۔۔ میرے عزیزوں نے آپ کے ذریعے مجھے یہ ہی پیغام بھیجا کہ اگر میں مر جاوں تو آپ کی قید سے آزاد ہو جاون گا۔۔ کیونکہ جب تک زندہ رہوں گا آپ مجھے کبھی آزاد نہیں کریں گے۔۔۔ میں نے اپنے عزیزوں کے عمل کےمطابق عمل کیا اور اب دیکھیں میں آ زاد ہوں ۔۔۔ اب جتنی باقی زندگی رہ گئی ہے وہ آزادی سے گزرے گی۔۔۔


انسان زمان و مکان کی قید میں زندگی گزارتا ہے۔۔ یہ قید اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ  زندگی کے ڈرامے کو سمجھنے کی بجائے  وہ اس میں اس قدر کھو جائے کہ اسے یہ ادراک ہی نا رہے کہ اسے ایک دن ختم ہونا ہے۔۔ لیکن ایسا ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتا۔۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ایک مقام پر پہنچ کر انھیں سمجھ آ جاتی ہے کہ اس کا رول بھی ایک دن ختم ہو جائے گا۔۔  لیکن زمان و مکان کی یہ قید اتنی سہانی  لگتی ہے۔۔۔ کہ  جانتے ہوئے بھی ۔۔۔۔۔ وہ اس قید کی، اپنے لئے بقا مانگتے ہیں۔۔
دنیا  کیا ہے؟
دنیا  ایک امتحان گاہ ہے۔۔ جہان ہم زندگی کا امتحان دے رہے ہیں۔۔ یہ امتحان ہم قید میں رہ کر پاس  تب ہی کر سکتے ہیں جب نتیجے سے متعلق ہمیں پورا یقین ہو۔۔ ہم مسلمان ہیں جزا اور سزا پر ۔۔کہنے کو تو یقین رکھتے ہیں۔۔ لیکن عمل کرتے ہوئے نتیجہ سے زیادہ ہمارے لئے  وہ لمحہ اور    زمان و مکان کا وہ پوائینٹ  اور ہمارے عمل کے قلیل مدتی فوائید ہمارے لئے زیادہ اہم ہو جاتےہیں۔۔ ان فوائید کا حصول ہمارے لئے ابدی نتیجے سے زیادہ اہم بن جاتا ہے۔۔
یہ ہی وجہ ہے کہ ہم زندگی کی طوالت مانگتے ہیں۔۔ اور موت سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔ امتحان میں رہنا محبوب رکھتے ہیں جبکہ نتیجے اور نتیجے کے بعد کی ابدی حیات کو صرف ایک خیال تصورکرتے ہیں۔۔
چونکہ ہم اس سٹیج کو حقیقت اور  خاتمے کو خیال جانتے ہیں اس لئے ہماری زندگیاں  کمیوں سے بھری رہتی ہیں۔۔۔ ہماری عبادات  رسموں کی تکمیل سے زیادہ نہیں ہوتی  کیونکہ ان عبادات کا مقاصد ۔۔ ہم جانتے ہوئے بھی جاننا نہیں چاہتے۔۔ کیونکہ مقاصد کی تکمیل میں نفس کی آرزوں کی تکمیل آرے آتی ہے۔۔
کہتے ہیں کتا  ہڈی کھاتا نہیں۔۔ وہ ہڈی کو دانتوں میں دباتا ہے تو اس کے مسورے پھول جاتے ہیں۔۔ وہ جب بار بار ہڈی کو دباتا ہے تو اسے ایک سیڈسٹک سی درد ہوتی ہے اور وہ اسی درد کے نشے میں ہڈی دباتا رہتا ہے۔۔۔  ہمیں دنیا میں، اس زندگی میں ہر موڑ پر نئے امتحان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔ لیکن ہم اکثر  باطل  کی ہڈی  صرف اس لئے چباتے ہیں کہ ہمیں  سیڈسٹک  درد کا نشہ لگ چکا ہوتا ہے۔۔ دنیا نے ہمیں اس قدر مصروف کر دیا ہوتا ہے کہ آخرت خواب لگتی ہے۔۔ ہمیں اس دنیا کی رنگینیاں اتنی بھاتی ہیں کہ اعمال کی لگن ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ ہم لمحے میں جینا پسند کرتے ہیں ۔۔جیسے اس کے بعدکوئی لمحہ نہیں آنا ۔۔
دنیا کو ایک ٹانزٹ یا گزر گاہ کہا گیا ہے۔۔ جو منزل کی سمت ایک مقام ہے۔۔ مقام  منزل نہیں ہوتا ۔۔ جو مقام کو منزل سمجھ بیٹھتے ہیں وہ  کبھی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ۔۔   اسی لئے تو  صوفیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔ مرنے سے پہلے مر جاو۔۔۔۔۔۔۔  تاکہ ظاہری موت تکلیف نہیں بلکہ کا میابی کا پیغام بن کر آئے۔۔مرنے سے پہلے مرنے کا مطلب ہے کہ اپنے نفس  کو نفسانی خواہشات سے پاک کرنا  لینا اور اسے اللہ کی پسندیدہ راہ پر لے آنا   تاکہ عبادات کے مقاصد پورے ہوں۔ عبادت کا حق ادا ہو۔  اور زندگی کی رونقین کسی صورت میں منزل  یعنی بندگی سے غافل نا کر سکیں۔۔۔ 

Tuesday, February 14, 2012

سرمایہ دارانہ نظام, ویلنٹاین ڈے اور ہم



دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے
(سورة البقرة آیت ۲۵۶)
نوجوانی کا دور اور جوانی بھی وہ جس میں غفلت عروج پر ہو
کیا دور ہوتا ہے۔۔۔ بندہ ہر فکر سے آزاد ۔۔۔ اپنی الگ دنیا میں مگن۔۔۔ ہر لمحے کو جینے والا
کل سے بے خبر ۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ ذمہ داریاں آنے لگتی ہیں۔۔ سمجھ آنے لگتی ہے
وہ زندگی جو ایک سہانہ خواب لگتی ہے آہستہ آہستہ جہدمسلسل بن جاتی ہے۔۔ پھر پتہ چلتا ہے خواب کا زمانہ سہانہ تو ضرور تھا لیکن حقیقی زندگی بہت تلخ اور محنت کا تقاضہ کرتی ہے۔۔۔
میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں۔۔۔ کالج کا زمانہ غلط فہمیوں میں گزارا۔۔۔ ہر سال عشق کئے ۔۔۔ جو سال کے اختتام پر آ نسوئوں کی صورت میں ختم ہوئے۔۔۔
ہیرو بننے کے چکر میں پہلے ایف ایس سی  پارٹ ون میں ‘‘سپلی’’ آئی ۔۔۔ پھر ایف ایس سی پارٹ ٹو میں بھی ‘‘سپلی’’ لی۔۔۔
دوست بھی ایسے ہی تھے۔۔۔ جو خوابوں میں رہتے اور رکھتے۔۔۔
ایف ایس سی کے زمانے میں سارا کالج دوست تھا۔۔۔  جوکرناچاہتا۔۔۔کر گزرتا۔۔۔ والد صاحب نے موٹر سائیکل لے کر دی۔۔۔توعیاشی کی انتہا اور بے فکری کی نئی زندگی شروع ہی ہو گئی۔۔۔ سارا سارا دن کلاس رومز سے باہر۔۔۔ یاری دوستی اور آوارہ گردی میں وقت کا ضیاع معمول ۔۔۔
اس دور میں شاعری کی۔۔ تقریرین جیتیں ۔۔ گانے کے مقابلے جیتے۔۔۔ ہاراتوتعلیم میں مار کھائی ۔۔۔ فرسٹ ائیر کی ‘‘سپلی’’ ۔۔سیکنڈ ائیر کی ‘‘سپلی’’ نہ روک سکی۔۔۔ بالآخر ایک سال ضائع کیا۔۔۔
سال اول میں جس سے عشق کیا۔۔۔ اس نے تعلیم اور زندگی میں ‘‘نان سیریس’’ ہونے کی وجہ سے  ٹھکرادیا۔۔۔ سال دوم میں بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔  کوئی کیونکر کسی غیر سنجیدہ انسان کے لئے سوچے اور مستقبل کے خواب آنکھوں میں پروئے۔۔۔ ویسے بھی  انسان  خاص طور پر لڑکے، نو جوانی میں محبت اورہوس کے درمیان  کم ہی فرق کر پاتے ہیں۔۔ جبکہ لڑکیاں  جلد نظروں اور سماج کے ہیر پھیر میں دھیان کرنےکے قابل ہو جاتی ہیں۔۔۔
سال ضائع کرنے کے بعد فوج میں ٹرائی کیا۔۔۔ دو مرتبہ آئی ایس ایس بی سے ‘‘ریجیکٹ’’ ہوا۔۔۔ آرمی کے علاوہ کچھ سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔ اس وجہ سے لوگوں کے کہنے پر بی ایس سی میں داخلہ لے لیا ۔۔۔ ایف ایس سی چونکہ پری میڈیکل تھی۔۔۔ جبکہ بی ایس سی میں میتھس ،سٹیٹس اور اکنامکس رکھا تھا۔۔۔اس وجہ سے دو سال یہاں بھی ضائع کئے اور  پھر پرائیویٹ بی اے کیا۔۔۔
جب ہوش آیا تو دوستیاں یک دم ختم ہو گئیں۔۔۔  آج میں کہہ سکتا ہوں کہ ایک دو دوستوں کے علاوہ میرا کوئی دوست نہیں۔۔۔ وہ سینکروں دوست یک دم پتہ نہیں کہاں چلے گئے۔۔۔ جن کے لئے میں نے خود کو اور اپنے گھر والوں کو خراب کیا۔۔۔
ایف ایس سی  کا ہیرو آج اپنے کو نہایت حقیر انسان محسوس کرتا ہے۔۔۔ نوجوانی کی حرکتوں کی یاد ۔۔ شرمندہ کر دیتی ہے۔۔اتنی مار پر چکی ہے کہ آج کاابو عبد الصمد  کل کے ابو عبد الصمد سے ہر لحاظ سے سو فیصد مختلف  ہے۔۔۔ 
اب سمجھ آ رہی ہے کہ زندگی کا حسن ۔۔زندگی کی خوبصورتی ۔۔انسانیت کے درمیان ۔۔۔رشتوں کے درمیان باہمی احترام اور رکھ رکھائو سے ہے۔۔۔ معاشرے ایک معاشرتی معاہدے کے تحت وجود میں آتے ہیں۔۔۔ جہاں ہر کوئی حقوق کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی رکھتا ہے۔۔۔
اللہ کی رحمت سے اب سمجھ آئی ہے کہ
گناہ کیا ہے؟
نیکی کیا ہے؟
گناہ کم ظرفی ہے اور نیکی اعلٰیٰ ظرفی
ظلم کیا ہے؟
چیزوں کا اپنے مقام پر نہ ہونا ظلم ہے
ماں ماں ہے
اور باپ باپ
بھائی بھائی ہے
 بہن بہن
اور بیٹی بیٹی ہے
اسی طرح بیوی بیوی ہے
سب کا اپنا اپنا مقام ہے
سو ! اگر ان سب کا مقام ان کو نہ دیا جائے تو یہ کم ظرفی ہے۔
اور گناہ گار ظالم اور کم ظرف ہوتا ہے
زندگی کی خوبصورتی توازن میں ہے
مختلف رشتوں کے درمیان توازن میں۔

توازن احترام سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ من مانی اور نفس پرستی سے۔۔۔
نفس پرست رشتوں کی حرمت پامال کرتا ہے۔۔۔دنیا جائے عمل ہے۔۔۔ ہم جو کرتے ہیں اس کا پھل کا ٹتے ہیں۔۔۔


سا ئنس کی ترقی نے جہاں انسان کے لئے بہت سی سہولیات پیدا کی ہیں۔۔۔وہاں نظریات  اور اخلاقیات میں بھی بدلائو لائی ہے۔۔۔
سائنس حواس خمسہ میں آنے والی چیزوں کو مانتی ہے۔۔۔ جو چیزیں ان حواس کی پہنچ سے دور ہوں ان کا انکار کر دیتی ہے۔۔اسی ‘‘سائنٹفک اپروچ ’’ کا نتیجہ ‘‘ڈارون ازم ’’ہے۔۔۔ جسے آسان لفظوں میں ‘‘طاقتور کی بقا کا نظریہ بھی کہا جا سکتا ہے’’۔۔۔حالا نکہ سائنس  یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ وہ سب کچھ جان چکی ہے ۔۔۔ لیکن جو نہیں جانتی اس پر سوال ضرور اٹھاتی ہے ۔۔۔
 گزشتہ  کچھ صدیوں کی سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ مملک سے دنیا کو  سرمایہ دارانہ نظام  ملا ہے۔۔ سائنس کی طرح یہ معاشی نظام بی  بھی انسانی ذہنی  ارتکا  کا حاصل ہے۔۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد بھی  وہی  ڈارون ازم ہے ۔۔۔یعنی  طاقتور کی بقا۔۔۔۔۔ سرمایہ دارانہ نظام  کا پھل  مادہ پرستی  ہے۔۔۔جس کی انتہا  لذت پرستی ہے۔۔ سرمایہ دارانہ نظام   ہمیں سیاسی طور پر جمہوری نظام دیتا  ہے۔۔اس میں بھی ڈارون ازم کا نظریہ ہی کار فرما نظر آتا ہے۔۔۔
 سرمایہ دارانہ نظام   کے مطابق  تجارت اور معیشت میں حکومت کا کنٹرول نہیں ہونا چاہئے۔۔۔ ریاستی حکومت کا کام صرف لاءاینڈ آرڈر اور سرمایہ دار کے مفاد کا تحفظ ہے۔۔۔ مارکیٹ فورسسز  اپنے مسائل خود حل کرتی ہیں۔۔۔ سرمایہ دارنہ نظام میں سیاسی حکومت بھی سرمایا دار  کے ہی ہاتھ میں ہوتی ہے۔۔ سرمایہ دار ۔۔۔یا جس کے پاس سرمایہ یا دولت ہو۔۔۔ وہ اخلاقیات ، طاقت  اور سیاست کو اپنے مفاد میں استعمال کرتا ہے۔۔۔
اسی لئے  ایک زمانے میں مانی جانے والی اخلاقی اقدار  ۔۔۔ کچھ عرصے بعد بدل جاتی ہیں۔۔۔ جیسے انیس سو میں خود امریکہ میں اگر  کوئی عورت ٹخنے سے اوپر تک سکرٹ پہنتی تو ۔۔ بے حیا خیال کی جاتی۔۔ پھر زمانے کے ساتھ ساتھ شرم و حیا کا  پیمانہ بدلتا گیا ۔۔اور آج جہان پر آ گیا ہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔۔۔
سرمایا دارانہ نظام   آج مختلف لیولز پر دنیا کوکنٹرول کر رہا ہے۔۔ ایک عالمی سرمایا دار ہے ۔۔جو جنگیں کرواتا ہے۔۔ ضرورت کے مطابق نظریات کو فروغ دیتا ہے اور پھر انہی نظریات کو ۔۔۔مطلب  نکلے کے بعد  ۔۔۔ غیر انسانی قرار دے کر دنیا کو ان کے خاتمے کی طرف لگا دیتا ہے۔۔۔
پھر علاقائی سرمایا دار ہے۔۔ جو اپنے خطے میں عالمی سرمایا دار کے مفادات بڑھاتا ہے۔۔ اور اس عمل سے اپنے سرمائے میں اضافہ کرتا ہے۔۔۔۔۔


سرمایا دارانہ نظام انسانیت کے نام پر انسانیت کو ختم  کرنے میں لگا رہتا ہے۔۔۔ اگر  پچھلے بیس سال کو ہی دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ ان دو دہائیوں  میں لڑی گئی جنگوں میں۔۔۔ وہی لوگ متحرک  نظر آئین گے جنہوں نے کروڑوں کو مروا کر  کھربوں کمائے اور اپنے معاشی مقاصد حاصل کئے۔۔۔
سرمایہ دارانہ نظام جہان انسانیت کی بات کرتا ہے وہان قابل غور چیز ہے کہ اس نظام نے انسان کو بھی ایک جنس یا کموڈٹی بنا کر رکھ دیا ہے۔۔۔
آج ہر اشتہار میں آپ کو عورت نظر آئے گی۔۔۔  جو عجیب اور غریب ملبوسات اور خطرناک ادائوں سے  چیز کی تشہیر کرتی ہے۔۔۔ چینلزمیں وہ ڈرامے اور شوز  آپ کو مقبول نظر آئیں گے جن میں خوبصورت عورتیں ہوں۔۔۔
عورت کو بھی اس نظام نے ایسا بے وقوف بنا دیا ہے کہ عورت  موڈرن ازم کے نام پر کسی بھی حد سے گزرجاتی ہے۔۔۔عورت کا جتنا استحصال اس نظام نے کیا ہے ۔۔۔ اتنا عورت کا استحصال کبھی نہیں ہوا۔۔۔
محفلوں میں  یہ ماڈرن خواتیں  لذت پرستی کا سامان مہیا کرتی نظر آتی ہیں۔۔۔ جبکہ عورت کی عزت و احترام کی جگہ اس سے لالچ، اس کی پاپولیریٹی کا سبب ہوتی ہے۔۔۔ اور ماڈرن عورت یہ جانتے ہوئے بھی ۔۔۔انجان بنی رہتی ہے۔۔
دوسری جانب اسلام عورت کو ایک عظیم رتبہ دیتا ہے۔۔
عورت ماں ہے ۔۔تو اس کے قدموں تلے جنت۔۔
بیٹی ہے تو والدین کے لئے جنت کی بشارت
بہن ہے تو بھائی کی غم خوار
بیوی ہے تو   نور نظراولاد کی جنت اس کےقدموں  تلے ، غم خوار اور  دوست۔۔امانت دار اور نگران
بہو ہے تو بیٹی کی ماند
ہر روپ میں قابل عزت اور قابل احترام۔۔۔
 لیکن اس انسان کو کیا کہیں ۔۔جسے اس کے رب نے ناشکرا قرار دیا۔۔
آگ کی چمک دیکھ کر اس کی طرف پروانون کی طرح ٹوٹتا ہے۔۔ مگر خیر کی ٹھنڈک کو  چھوڑ دیتا ہے۔۔  کماڈٹی یا جنس بننا پسند کرتا ہے لیکن اشرف المخلوقات بننے کو  برا سمجھتا ہے۔۔۔
آج  ویلنٹائین ڈے ہے۔۔ جس میں  کئی بہن بھائی اپنے مقامات سے  گرنے کو  ترجیح دیں گے۔۔۔ مادہ پرست ،لذت پرستی  میں خود کو رسوا کریں گے۔۔۔ محبت کے نام پر ہوس راج کرے گی۔۔۔خود کو غیرت مند جاننے والے ۔۔دوسرے کی غیرت کو  چیلنج کر کے۔۔اپنی غیرت  کا پول کھولیں گے۔۔۔
سرمایہ دار  ٹی وی چینلز پر اشتہارات اور پروگراموں کے ذریعے ۔۔ اس دن کی تشہیر کرے گا۔۔ عورت  اپنی مرضی سے لذت پرستی کا سامان بنے گی۔۔۔ ہوس کی منڈی میں دوسری اشیاء کے ساتھ ساتھ عورت بھی بکے گی۔۔۔
شیطان آج اپنی طاقت کے عروج پر ہے۔۔ اسے سرمایا دارانہ نظام کی صورت میں اسے سینکروں  اتحادی میسر آ گئے ہیں۔۔۔ لیکن دوستویاد رکھنا  تم اللہ کے بندے ہو۔۔۔اور یہ بھی ضرور یاد رکھنا کہ تمھارے ابا  حضرت آدم علیہ سلام پر اللہ رب اعزت نے فرشتوں کے سامنے فخر کیا تھا۔۔۔
آج کہیں تم ادب و آداب گنوا نہ دینا۔۔۔معاشرے کا حسن توازن اور احترام میں ہے۔۔۔ اور یہ ہی چیز  معاشرے  کو طاقتور بناتی ہے۔۔۔ بس اس بات کو یاد رکھنا۔۔۔ اعلٰیٰ ظرف بننا ۔۔۔ اور کم ظرفی سے اللہ کی پناہ مانگنا۔۔۔
اللہ ہمیں عدل پر چلنے والا بنائے۔۔۔ آمین!

Monday, February 13, 2012

وقت اور انساں


اللہ رب العزت بہت محربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔۔اس کی رحمتیں کائینات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔۔ حالنکہ خالق اور مخلوق کا کوئی مقابلہ نہیں۔۔۔ خالق خالق ہے اور مخلوق مخلوق۔۔۔ خالق اپنی ذات ، صفات اور عظمت و جلال میں یکتا اور بے مثال۔۔ جس کی تمام صفات لا محدود ۔۔لیکن پھر بھی اللہ رب العزت اتنا محربان ہے کہ مخلوق کی غلطیوں پر بھی انھیں فنا نہیں کرتا ۔۔۔
اللہ رب العزت ستار العیوب ہے جو بندے کو شرمندہ کرنا نا پسند کرتا ہے۔۔ انھیں توبہ کے لئے بار بار مواقع دیتا ہے۔۔۔ کہ وہ لوٹ آئے۔۔  بندہ اگر غلطیان تسلیم کر لے ۔۔ اور توبہ کا خواستگار ہو تو اسے ایسے پاک کر دیتا ہے جیسے وہ ابھی ابھی پیدا ہوا ہو۔۔
اللہ سبحان و تعالٰی  کی محربانیوں میں سے  ایک  عظیم محربانی وقت ہے۔۔ وقت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ گزر جاتا ہے۔۔ آپ سخت بیمار ہیں ، سخت معاشی اذیت کا شکار ہیں ۔۔لیکن جیسے جیسے وقت گزرے گا تمام مصیبتیں بھی ختم ہوتی  جائیں گی ۔۔کل شاید صرف یاد ہو۔۔۔  جبکہ زخم کا نشان بھی مٹ چکا ہو۔۔ وقت ایک مرہم کا کام  بھی کرتا ہے۔۔وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ۔۔۔ ہر وقت غم نہیں رہتے اور نہ ہی ہر وقت خوشیان رہتی ہیں۔۔ یہ ہی بات زندگی میں رنگ بھرتی ہے اور آگے چلنے کی ہمت پیدا کرتی ہے۔۔۔

وقت ایک استاد بھی ہے۔۔ ہر گزرا ہوا لمہہ ۔۔۔ ہمیں زندگی کے سبق دے کر جاتا ہے۔۔ عقل مند  سیکھتا ہے اور بے وقوف بے خبر رہتا ہے۔
زندگی بھی عجیب ہے، جب اس کی سمجھ آنے لگتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ خاتمے کے قریب پہنچ چکی ہے یا جلد پہنچنے والی ہے۔۔ انسان کی نظر گزرے ادوار پر پڑتی ہے ۔۔ وہ روتا ہے کہ وقت نے اشارے تو بہت دئیے لیکن افسوس وہ اشارے نہ سمجھ سکا  اور عالم مدہوشی اور عالم شباب و طاقت میں غلطیون پر غلطیان کرتا رہا۔۔ کتنا عقل مند ہے وہ جو وقت کے اشارے سمجھا۔۔ اپنی کوتاہیوں سے سیکھتا رہا ۔۔ اور زندگی کو رب کی منشا کے مطابق گزارنے میں لگا رہا۔۔۔

حافظ داود  میرا ایک اچھا دوست تھا۔ وہ میرا ہی نہیں ایف جی کالج لاہور کینٹ کے ہر سٹوڈنٹ کا ہر دل عزیز دوست تھا۔۔ مدد کرنے والا ۔۔  صاف گو اور علم و عمل میں ہم سب سٹوڈنٹس میں  سب سے پختہ۔۔ اس کے والد فوج کی ایجوکیشن برانچ میں کرنل تھے۔۔۔ ایف جی کالج  لا ہور میں ، میں پری میڈیکل میں ایف ایس سی کر رہا تھا اور حافظ صاحب پری انجینئرینگ  کر رہے تھے۔۔ حافظ داود کو اللہ نے کمال صفات سے نوازا ہوا تھا۔۔ بہتریں قاری قرآن، بہترین سپوڑٹس میں۔۔ بہتریں مقرر، اپنی کلاس  کا  لائیق ترین طالب علم۔۔۔
یہ انیس سو  پچانوے کی بات ہے ۔۔ہم نئے نئے سیکنڈ ائیر میں پرموٹ ہوئے تھے۔۔ میں آرمی میں جانا چاہتا تھا ۔۔اس لئے فٹنس کے لئے روزانہ شام کو پانچ ۔۔۔چھ کلومیٹر  بھاگتا۔۔۔ یہ چار ستمبر کی شام تھی ۔۔۔میں  معمول کے مطابق رننگ کر رہا تھا جب  ملاقات حافظ  صاحب سے ہو گئی۔۔ حافظ صاحب عصر کی نماز کے لئے مسجد جا رہے تھے۔۔
حافظ صاحب نے پوچھا کہان جا رہے ہو۔۔ میں نے کہا یار رننگ کا وقت ہے ۔۔ دوڑ لگا رہا ہوں۔۔
بولا ۔۔چل یار نماز کے لئے چلیں۔۔پانچ منٹ کی ہی تو بات ہے۔۔
میں نے جواب دیا ۔۔ ابھی رننگ پوری کر کے نماز پڑھوں گا۔۔ تو جا کہیں تیری نماز نہ کھڑی ہو جائے۔۔
حافظ صاحب مسکرائے اور بولے
ہان یار میری نماز تو کھڑی ہو ہی جائے گا۔۔ چل تیری مرضی۔۔ میں تو نماز کے لئے جا رہا ہوں۔۔۔
دوسرے دن کالج گئے تو فزیکس  کے سر پرویز نے کہا   کہ ان کے بہانجے کو خون کی ضرورت ہے۔۔ میں چونکہ فاطمید والوں کو خون دیتا رہتا تھا اس لئے میں نے کہا سر میں جا کر ارینج کر دیتا ہوں۔۔
سر بولے۔۔۔ داود بھی گیا ہے۔۔ تم بھی اگر کر دو تو بہت آسانی ہو جائے گی۔۔
میں نے موٹر سائیکل  سٹارٹ کی اور  پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی ۔۔۔ کی طرف چل پڑا جہاں بچہ ایڈمٹ تھا۔۔
وہاں مریض کے والد نے  بتایا کہ حافظ داود خون دے کر جا چکا ہے۔۔ اگر ضرورت پڑی تو وہ  مجھے  مطلع کر دیں گے۔۔ فی الحال ضرورت نہیں۔۔۔
واپس آ رہا تھا کہ شیر پاو پل اترتے ہی دیکھا۔۔۔  گوگو  ہوٹل کے سامنے سڑک خون و خون ہوئی وی ہے۔۔۔۔  پتہ چلا کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔۔ خیر کالج پہنچے ۔۔اور کلاسز کے بعد  گھر کو ہو لئے۔۔۔
چھ ستمبر کی چھٹی تھی۔۔جو  گھر کے کاموں میں گزری
سات کو صبح موٹر سائیکل کی ٹیوب تبدیل  کرانی تھی۔۔ جلدی تھی ، موٹر سائیکل مکینک نے کہا دکان سے لے آئیں ۔۔ نوجوانی کا دور تھا ۔ سٹیمینا  بھی تھا۔ میں ٹیوب لینے کے لئے بھاگا۔۔ سامنے دیکھا ایک ویگن تیز رفتار سے آ رہی ہے۔۔۔ کچھ انچون  کے حساب سے بچا۔۔۔
خیر ٹیوب لے کر آیا ، اسے لگوایا ۔۔ اور کالج کے لئے بھاگا۔۔۔
کالج کے گیٹ سے دور ہی لڑکوں کو اداس اداس  حاجی ٹرمنل  کی طرف جاتے دیکھا۔۔۔
اندر داخل ہوا تو سب لڑکے لڑکیاں اداس اداس ۔۔افسردہ افسردہ بیٹھے تھے۔۔
عمر ارشد نظر آیا۔۔ معملہ پوچھا تو  رو پڑا ۔۔بولا یار پرسوں جو شیر پاو  کے قریب خون دیکھا تھا۔۔  وہ اپنے دوستوں کا ہی تھا۔۔۔ حافظ داود اور رانا شہیر   ۔۔۔۔سر پرویز کے بھانجے کو خون دے کر آ رہے تھے جب ایک گاڑی نے انہیں سائیڈ ماری۔۔۔ حافظ تو موقع پر فوت ہو گیا ۔۔ جبکہ شہیر سی ایم ایچ میں کومے میں پڑا ہے۔۔ یہ میں تیرا انتظار ہی کر رہا تھا۔۔چل حاجی ٹرمینل کے سامنے شہیدون کے قبرستان چلیں ۔۔وہان حافظ کو دفنایا گیا ہے۔۔۔ فاتحہ ہی پڑھ آئیں۔۔۔
اگلے ہفتے رزلٹ نکلا۔۔
مرحوم دادو نے توقعات کے مطابق کالج میں مجموعی طور پر  سب سے زیادہ نمبر لئے ۔ جب تک زندہ رہا تو ہر دل عزیز رہا اور مرنے کے بعد بھی ثابت کر گیا کہ وہ بہترین تھا۔۔۔
حافظ کی نماز کھڑی ہو چکی  تھی۔ میں اس میں بھی شامل نہ ہو سکا۔ شاید اللہ کا  وہ نیک بندہ  وہ کچھ جانتا   تھا جو میں ویگن سے کچھ انچون  سے بچنے کے باوجود بھی کئی سال نہ جان سکا۔۔
حافظ داود کی وفات کا زخم بھی آہستہ آہستہ مٹ گیا۔۔ زندگی معمول  پرآ گئی۔۔  زندگی میں کئی اتار چڑھاو  آئے۔۔ ذلتیں آئیں پھر اللہ نے عزتوں سے بھی سرفراز کیا۔۔  پہلے والد سے پاکٹ منی لیتا تھا پھر خود کمانا شروع کر دیا۔۔

یہ دو ہزار آٹھ کی بات ہے۔۔ان دنوں میں چینل ۵ میں ریسرچر تھا۔۔ آٹھ بجے دفتر کے کاموں سے فارغ ہو کر نکلا۔۔ روزنامہ  اوصاف کے دفتر کے سامنے سے رکشہ لیا۔۔ رکشہ ڈرائیور  کا حلیہ عجیب سہ تھا۔۔ عجیب سی داڑھی،  پھٹے  اور گندے کپڑے۔۔ خیال ہوا کوئی اٹھائی گیرا /پاوڈری    آدمی ہے ۔۔۔
سفر کے آغاز سے پندو نصیحت کا سلسلہ شروع کر دیا۔۔ رویہ ایسا جیسے میں عقل مند  اور صاحب مقام اور وہ غریب جیسے ایک گھٹیا انسان جسے  نصیحت کر کے اس پر احسان کر رہا ہوں۔۔
کوئی آدھ کھنٹے میں لیکچر دیتا رہا۔۔ اور وہ غریب سنتا رہا۔۔ اتنے میں گھر قریب آ گیا۔۔۔ کالونی کی مسجد قریب آئی تو وہ بندہ پہلی بار گویا ہوا۔۔۔ بلال صاحب یہ اللہ کا گھر ہے۔۔ کچھ سال پہلے آپ یہاں اذاں دیتے تھے ۔۔ پھر اللہ کی رحمت ہوئی۔۔۔ برا وقت گزر گیا اور آج آپ کا اچھا وقت شروع ہو چکا ہے۔۔لیکن آپ نے کیا کیا۔۔۔؟
آپ نے آذان کیا دینی تھی۔۔مسجد کا راستہ تک بھلا دیا۔۔
آپ کو تعلق نہیں توڑنا چاہئے اور مسجد کو آباد کرنا چاہئے تاکہ آپ مزید آباد اور شاد ہوں۔۔
سخت گرمی کے دن تھے۔۔رکشہ ڈرائیور کی بات سن کر مجھے کپکپی سی آ گئ۔ یہ میرا نام کیسے جانتا ہے؟۔۔۔ اسے کیسے پتہ میں یہان آذان دیتا تھا۔۔۔ یہ کیسے جانتا ہے کہ میں ابھی ابھی کرائیسز سے نکلا ہوں۔۔
میں نے پوچھا ۔۔حضرت آپ کوں ہیں؟
وہ بولا سر  آپ اسے چھوڑیں   میں ایک  ادنا سا بندہ ہوں۔سلطان باہو رحمت اللہ علیہ  سے نسبت رکھتا ہوں ۔ حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کے غلاموں  کا غلام ہوں۔۔ یہ کہہ کر اس نے پیسے لئے اور چل پڑا۔۔۔
اور میں حیرت سے کئی منٹ گھر کے باہرکھڑا اسے جاتے تکتا رہا۔۔

ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں۔۔ جتنے امیر  اور خوشحال ہوتے جاتے ہیں ،اتنے ہی غافل ہوتے جاتے ہیں۔۔ ہمارے لئے عزت کا میعار انسان کا باطن نہیں بلکہ اس کا ظاہر بن جاتا  ہے۔۔ ظاہر جتنا نفیس ، اتنا ہی فرد قابل عزت و احترام ۔۔چاہے وہ باطن کا کتنا ہی سیاہ کار ہو۔۔ جبکہ باطن کا  صاف  ،ظاہر کی غربت کی وجہ سے بے عزتہ اور خطاکار۔۔  کتنی حیرت کی بات ہے ۔۔ ہم اپنے سے ظاہراٍ غریبوں کے لئے سخت دل رکھتے ہیں لیکن اپنے سے امیروں کے ساتھ نرم اور پیٹھ پیچھے  سوشلسٹ بن جاتے ہیں۔۔
کتنی حیرت کی بات ہے  کہ خود پرستی میں اتنے گرفتار ہیں کہ اپنے سے زیادہ کوئی نظر ہی نہیں آتا۔۔ ہماری نیکی بھی اللہ کی رضا کے لئے نہیں بلکہ نفس کی مدح سرائی کے لئے ہوتی ہے۔۔ کسی کو ایک پیسہ بھی دیتے ہیں  تو ہزار لوگوں کو بتاتے ہیں۔۔ اور اگر کسی سے ایک پیسہ بھی لیا ہو تو اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔
ہر سال اپنے دوستوں ، عزیزوں اور  قرابت داروں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔۔۔ مگر خود موت کو ایسے بھولے رہتےہیں  جیسے ۔۔موت سے  استثنا ء  حاصل ہو۔۔
انسان جب موت کو بھول جاتا ہے تو خدا بن جاتا ہے۔ کیونکہ موت کی یاد ہی اسے سیدھی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے ۔۔ موت کو بھولا بیٹھا انسان ۔۔۔ہر کام میں خود ساختہ اخلاقیات پر عمل کرتا ہے۔۔ اس کے اعمال۔۔ اس کے لئے خوبصورت  ہو جاتے ہیں ۔۔ اور وہ ایک ایسے نشے میں گرفتار  فرد جیسا ہو جاتا ہے جسے نشہ حقیقت سے دور کر دے۔۔
وقت استاد تو واقعی ہے۔۔لیکن ان کا جن  پر اللہ کی رحمت ہو، جن کے ضمیر زندہ ہوں۔۔جن کے دماغ سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
افسوس  اس انسان پر جو  وقت سے کچھ نہ سیکھ سکے۔۔ اور اس شخص پر جسے  جو یہ  بات نہ سمجھ سکے کہ  یہ زندگی تیں گھنٹون کی فلم کی طرح ہے جس نے ختم ضرور ہونا ہے۔۔ دنیا صرف انھیں ہی یاد رکھتی ہیں جو اس فلم میں اچھا کردار نبھائیں۔۔
افسوس  ہم اپنی انا کے علاوہ جن لوگوں۔۔۔ جن رشتوں کی خاطر  انصاف و عدل کا راستہ چھوڑتے ہیں ۔۔ان کی محبتیں بھی قبر تک پہنچتے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔۔ قبر  ہی زندگی  کی سٹیج کا اختتامیہ ہے۔۔ جہاں  پہنچ کر دولت، جوانی ، بیٹے ، محل اور بینک بیلنس ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔۔
یہان  اور یہان سے آگے ۔۔ صرف وہی چیزیں  ساتھ دیتی ہیں۔۔جنھیں انسان ساری زندگی اہمیت نہیں دیتا۔۔  کاش کے انسان سمجھ سکے کہ دنیا کی سٹیج پر کب سے ڈرامہ چل رہا ہے۔۔ لا تعداد ایکٹر آئے اور گئے۔۔ ہم بھی رول  ادا کر کے چلے جائیں گے۔۔ یاد کرنے والے ہمیں معاشرے کو دی ہوئی خیر، محبت   اور نیک اعمال کی بنیاد پر  ہی یاد کریں گے۔۔
اللہ ہمیں با شعور بنائے ۔۔ تاکہ ہم زندگیوں میں عدل پیدا کریں۔۔خیر بانٹیں اور خیر پھیلائیں ۔۔
بلھے شاہ اسان مرنا نا ہیں
گور پیا کوئی ہور






Friday, February 10, 2012

مثبت سوچ سے ہی دنیا بدلتی ہے۔

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيم

کہہ دو اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے الله کی رحمت سے مایوس نہ ہو بے شک الله سب گناہ بخش دے گا بے شک وہ بخشنے والا رحم والا ہے

(سورۃ الزمر: آیۃ53)



کئی دنوں سے دل پر بوجھ سا تھا۔۔ اپنی ہی ذات میں ۔۔۔ اپنے پیشے کے حوالے سے بحث چل رہی تھی ۔۔۔ بار بار یہ آواز آ رہی تھی کہ مجھے میڈیا چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ میڈیا   دھوکے کا نام ہے جس میں سرمایا دار کے مفاد کے تحفظ کی خاطر مجھ جیسے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے  قوم کو بے وقوف بنانے کا کام انجام دیتے ہیں۔۔  کرنٹ افئیرز کے نام پر   لوگون کو کنفیوز اور مس گائیڈ ۔۔۔کیا جاتا ہے اور اسے پروفیشنلازم کے نام پر جائیز  قرار دیا جاتا ہے۔۔۔
بات آگے برھانے سے پہلے بتاتا چلوں۔۔ میں ایک  نجی چینل میں پینتیس ہزار پر ملازم ہوں۔۔ میری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ میں غلط بات نہ ہونے دوں ۔۔ اسی وجہ سے لوگ عزت تو کرتے ہیں لیکن شاید   مجھے نا پسند بھی کرتے ہیں ۔۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ میں لاہور سے ہونے والے کسی پروگرام کی ٹیم کا حصہ نہیں بلکہ  اسلام آباد سے ہونے والے تیں  پروگرامز کا پینل/ ایسوسی ایٹ پروڈیوسر ہوں۔۔ ۔
کئی مہینوں سے احساس ہو رہا ہے کہ میرے وقت اور مال میں برکت نہیں رہی۔۔۔نہ ہی گھر والوں کو سہی وقت دے سکتا ہوں اور نہ ہی جو تنخواہ گھر لاتا ہوں اس سے ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

پچھلے مہینے کچھ خرچے  زیادہ  ہوئے۔۔جس کے نتیجے میں  تنخواہ سے پہلے ہی دس ہزار کا مقروض ہو گیا۔۔ اس ماہ تنخواہ بھی لیٹ ہو گئی۔۔۔ یہان بتاتا چلوں مجھ پر قرض ہو تو میرے اوپر۔۔ اسے اتارنے تک  بے سکونی رہتی ہے۔۔۔
پروفیشن سے متعلق اس ہی سوچ میں میں نے دو چھٹیان لے  لین۔۔۔۔  تاکہ ان چھٹیوں میں آرام کے علاوہ  تعلیمی شعبے میں نوکری تلاش کر سکوں۔۔ نوکری کیا تلاش کرنی تھی۔۔یہ دو دن سو کر اور گھر کے کام نپٹانے میں گزر گئے۔۔ کل صبح  جب دفتر آنے لگا تو پتہ چلا کہ بٹوہ گم گیا ہے۔۔۔ ہزار جگہ تلاش کیا۔۔۔ جہان جہان گیا تھا ۔۔۔وہان فوں کئے ۔۔لیکن ہر جگہ سے مایوسی ہوئی ۔۔۔ اتنے میں میسج آ گیا کہ تنخواہ بھی آ گئی ہے۔۔۔
میں نے زندگی میں صرف دو یا تین دفعہ چیک کا ٹے ہیں۔۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے ابھی بھی چیک کا ٹنے کا سہی طریقہ نہیں آتا۔۔۔ اے ٹی ایم زندہ آباد۔۔۔ ہمیشہ اے ٹی ایم سے ہی پیسے نکلواتا ہوں۔۔۔
اب میری  ذہنی حالت عجیب ہو رہی تھی۔۔۔پرس میں اے ٹی ایم کارڈ تھا۔ قومی شناختی کارڈ۔۔ اور سروس کارڈ بھی۔۔۔ چیک بک کے کئی چیک عبد الصمد صاحب پھاڑ چکے ہیں اب  پیسے کے ہوتے ہوئے بھی دوسرے دن کا انتظار کرنا تھا تاکہ صبح  بینک جا کر پھٹے چیک کینسل کروا  کر نیا چیک کیش کرواون ۔۔ اور قرض کی ادائیگی کرون ۔۔۔ پھر تھانے جا کر بٹوے کی گمشدگی کی ایف آئی آر۔۔۔ پھر نیا شناختی کارڈ اور نئے اے ٹی ایم کارڈ کی  درخواست۔۔۔
خیر وقت پر گھر سے نکل آیا۔۔۔ دل میں انا للہ   پڑھی۔۔۔ اور دفتر کے لئے نکل پڑا۔۔۔ راستہ میں ایک جگہ  ایک معزور بھکاری کو دیکھا ۔۔ دل میں آئی کے کچھ پیسے اسے دے دوں ۔۔۔ پانچ کا نوٹ نکالا  اور رکشہ ڈرائیور کو کہا چاچا قریب آنے پر اسے دے دو۔۔۔
اچانک اشارہ کھل کیا۔۔ رکشا ڈروئیور نے  نوٹ کی بتی بنائی اور اسے سڑک پر پھینک کر رکشا چلا دیا۔۔
اس کی یہ حرکت دل کو بہت ناگوار گزری۔۔۔ خود پر افسوس ہونے لگا کہ نیکی کا سوچا تھا اور انسانیت کی تذلیل ہو گئی۔۔ رکشہ ڈرائیور کو کہا کہ یہ طریقے نہیں تھا۔۔ انسان عزت کے قابل ہے ناکہ تحقیر کے۔ اور دل میں اللہ سے معافی مانگی۔۔
تھوڑی دور گئے تھے کہ دفتر کے قریب کی مارکیٹ آ گئی۔۔ ایک بچہ رکشے سے لٹک گیا ۔۔بولا چاچا ذرا آگے تک لے چلو۔۔رکشہ ڈروئیور نے بچے کو کہا اتر جائے۔۔جب بچہ نہ اترا تو اسے گالی کے ساتھ تھپر رسید کر دیا۔۔ بچہ رونے والا منہ لے کر نیچے اتر گیا اور بولا  چاچا اگر نہیں بیٹھانا تو نہ بیٹھا۔۔لیکن تھپر تو نا مار۔۔
مجھے ایک اور جھٹکا لگا۔۔۔
یاد آنے لگا کہ ہر روز چاچا ۔۔زندگی کے۔۔ لوگوں کے ۔۔۔ ان کےرویوں کےشکوے کرتا ہے۔۔۔ بچے عزت نہیں کرتے۔۔۔ رشتے دار قدر نہیں کرتے۔۔۔ لوگ عدل نہیں کرتے۔۔۔ کسی کو بڑے چھوٹے کی تمیز نہیں۔۔
مجھے  سمجھ آ گئی کہ چا چا کے ساتھ ایسا کیون ہوتا ہے۔۔  ہمیں وہی ملتا ہے جو ہم  معاشرے کو دیتے ہیں۔۔۔ ہمیں ہماری مثبت یا منفی سوچ کا ملتا ہے۔۔
دفتر پہنچا تو گھر سے ام لصمد کا فون آ گیا ۔۔آپ کا بٹوا مل گیا ہے۔۔۔ فوں بند کیا۔۔اندر سے  آواز آئی ہان۔۔۔ بٹوا واقعی مل گیا ہے۔ جس میں  انسانی زندگی سمجھنے  اور رویے اور ان کے اثرات جاننے کے راز ہیں۔۔ اور وہ راز ہیں۔۔۔ کہ مجھے وہی مل رہا ہے جو میری سوچ ہے۔۔۔ جو میں شعوری یا لا شعوری طور پر معاشرے کو دے رہا ہوں۔۔

 اللہ رب العزت خالق ہے۔۔اور ہم مخلوق ۔۔ مخلوق اللہ سبحان و تعالٰی کی صفت تخلق کا مظہر ہے۔۔
انسان کی فطرت میں سر جھکانا ہے۔۔  یہ سر جھکانا  انسان  پر اللہ کی سب سے بڑی رحمت ہے ۔۔اللہ نے انسان کو ایک حد تک خود مختار بنایا ہے۔۔۔ اسے اعمال انجام دینے میں ایک حد تک آزادی دی ہے۔۔۔ لیکن اعمال کا نتیجہ کیا ہو گا ۔۔۔ اس پر  انسان طاقت نہیں رکھتا۔۔۔ اسی لئے جب وہ اللہ رب العزت کے احکامات کے منافی کام کرتا ہے ۔ یا  دل ایماں کی حلاوت بھول جاتا ہے۔تو  وہ پھنس جاتا ہے۔۔ اور اس کے نتیجے اسے مسائل کی دلدل میں مزید کھینچتے ہیں۔۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے ۔۔کہ اگر تو وہ سر جھکانے والا ہو۔۔اور یقین والا ہو۔۔ تو اللہ کی  رحمت  سے اسے نکلنے کی راہ مل جاتی ہے اور وہ جسمانی اور روحانی بوجھ سے نکل جاتا ہے۔۔۔ لیکن اگر وہ سر جھکانے والا نہ ہو۔۔۔ اور اپنے رب سے اجنبی ہو۔یا صرف زبانی کلامی ماننے والا ہو۔۔۔۔تو وہ منفی سے منفی ہوتا جاتا ہے اور اس کی زندگی عذاب در عذاب کی نظر ہو جاتی ہے۔۔
جب میں زندگی کے اس دور میں تھا جب سایہ بھی سلام کا جواب نہ دیتا تھا۔۔۔ اس وقت یہ اللہ کی رحمت کی امید ہی تھی۔۔۔جس نے مجھے ذلتون کی دلدل میں جانے سے بچایا اور پھر  مثبت  انداز میں مشکلات کو شکست دینے کی ہمت دی۔۔
کتنا بد قسمت ہے وہ جس نے رب کا انکار کیا اور لاچار زندگی گزاری اور منفی سوچ کے ساتھ جیا اور پھر مر گیا۔۔
کتنا بد قسمت ہے وہ جس نے رب کا تو انکار کیا مگر ساری زندگی نفس کی عبادت کی۔۔۔
اللہ کے آگے سر جھکانے کا سب سے بڑا پھل مثبت سوچ ہے۔۔ مثبت سوچ  اللہ پر ایمان سے آتی ہے۔۔کیونکہ ایمان سیکھاتا ہے کہ وہ ذات جس نے پیدا کیا اور کچھ کلو  کے بچے کو ۔۔۔جو رونے کے علاوہ کچھ نہیں جانتا تھا۔۔۔ چھ فٹ کا جوان بنایا ۔۔۔ سوچنے اور سمجھنے کی طاقت اور عمل پر اختیار دیا۔۔۔ وہ  اپنے بندے  کو برے سے برے حالات میں بھی تنہا نہیں چھوڑتا۔۔  ایمان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مثبت سوچ۔۔ معاشرے میں محبت اور ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔۔
جب تک مثبت سوچ نہ ہو انسان خوش رہ ہی نہیں سکتا۔۔ دیکھنے کا انداز مسائل کی نوعیت بدل دیتا ہے۔۔مثبت سوچ نا ممکن کو ممکن اور منفی سوچ ممکن کو نا ممکن بنا دیتی ہے۔
 جسے گلا س آدھا  خالی نظر آتا ہے وہ ہمیشہ مایوس ہی رہتا ہے اور جو گلاس کو آدھا بھرا ہوا دیکھتا ہے وہ ہمیشہ پر امید اور خوش ہی رہتا ہے۔۔۔ پہلی قسم کے انسان کے  لئے مسائل بچے دیتے ہیں اور دوسری قسم  والا مسائل سلجھاتا بھی ہے اور ان ہی مسائل میں رہ کر نئی  راہیں بھی تلاش کر لیتا ہے۔۔
کل کے واقعات سے میں نے بہت سے نتیجے اخذ کئے ہیں۔۔۔ مثبت سوچین ہی تبدیلیان لاتی ہیں۔۔۔ جبکہ منفی سوچ کا پھل مزید تفکرات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔۔۔
یہ میڈیا میری زندگی میں آنے والی بے برکتیوں کی وجہ نہیں۔۔ بلکہ ان کی وجہ میری منفی سوچ ہے۔۔ مجھے اس میڈیا میں رہ کر خدمت کرنی ہے۔۔ میرا میڈیا چھوڑنا ایک خود غرضی ہو گی۔۔  نقص نکالنا آسان ہے اور ان نقوص کو ٹھیک کرنا ۔۔ اور ٹھیک کرنے کی کوشش کرنا نہایت مشکل۔۔۔۔
اللہ ہم سب کو ایمان اور مثبت سوچ دے تاکہ ہم  معاشرے کو اچھائی دیں اور بدلے میں خیر حاصل کریں۔۔۔
آمیں

Friday, February 03, 2012

سلام کی عادت اور معاشرے کی طاقت



آقا ئے دوجہاں محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  فرمان مبارک ہے۔۔
مجھے خلق یعنی اخلاق کی تکمل کے لئے بھیجا گیا۔۔۔
مسجد نبوی میں حضور تشریف فرما ہیں ۔ صحابہ کرام اپنے مسائل کا حل دریافت کر رہے ہیں کہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے ہیں۔۔ اور آتے ہی بات چیت میں شامل ہو جاتے ہیں۔۔۔
حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کرتے ہیں لیکں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب نہیں دیتے۔۔۔
دوسری طرف سے آتے ہیں پھر بات کرتے ہیں لیکں جواب نہیں ملتا
سرکارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق گھبر ا جاتے ہیں کہ کیا ان سے کوئی غلطی تو نہیں ہو گئی جو نبی رحمت ان سے بات نہیں کر رہے۔۔۔
جب پریشانی اور پشیمانی برھتی ہے تو وہ مسجد نبوی سے روتے ہوئے نکلتے ہیں ۔۔۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ادراق ہے کہ ان کے اس صحابی کیا کیا کیفیت ہے۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک صحابی کو پیچھے بھیجتے ہیں اور فرماتے ہیں
کہ جاو اور اپنے بھائی کو حوصلہ دو اور اسے بتاو کہ جب کسی مجلس میں داخل ہوتے ہیں تو سلام کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

دوستو اس واقع کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج ہم سلام کرنا اپنی    توہیں سمجھنے لگ گئے ہیں۔۔۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ سلام کرنے میں پہل دوسرا کرے۔۔۔ہم میں سے تو کئی ایسے بھی ہیں جو سلام کا جواب دینا بھی پسند نہیں کرتے۔۔۔
سلام نہ کرنا اور اس کا جواب نہ دینا بھی سٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔۔۔
مگر
سلام ہے کیا۔۔۔ السلام و علیکم ۔۔۔یعنی تم پر سلامتی ہو۔۔۔
کیا دوسرے سے نیکی میں پہل کرنے سے آدمی چھوٹا ہو جاتا ہے یا وہ بڑا ہونے کا ثبوت دیتا  ہے۔۔۔
 یقیناً سلام کرنے سے آپ مخاطب پر فضیلت لے جاتے ۔۔۔
ایک  اہم بات جب آپ کسی پر سلامتی بھیجتے ہیں اور وہ جواب میں آپ پر سلامتی بھیجتا ہے تو آپ دونوں اللہ رب العزت کی پناہ میں آ جاتے ہیں ۔۔۔جس کی وجہ سے  ایک طرف تو محبت میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسری طرف  مجلس اور اس ملاقات میں بھی برکت پرتی ہے۔۔۔ یاد رکھو بلند اخلاق لوگ ہی بلند کردار ہوتے ہیں۔۔ اور  کردار کی بلندی ہی قوم کی اصل طاقت کا پتہ دیتی ہے۔ یاد رکھو  پست کردار قومیں کبھی  طاقت ور نہیں ہوتیں  ۔۔۔۔
جناب علی کرم اللہ وجہ کا قول مبارک ہے
اپنی زباں کو سلام کرنے کا عادی بنا لو ،اس سے دوست بڑھتے ہیں اور دشمن کم ہوتے ہیں۔۔۔
میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے جو شاید آپ میں سے بہت سون کا بھی ہو ۔۔۔ مثلاً  آپ مسجد نماز کے لئے جاتے ہیں اور تمام لوگ ایک دوسرے کو آتے ہوئے یا نماز کے بعد سلام کرتے ہیں۔۔۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنے نمازی ساتھیوں کو نہیں جانتے لیکں روزانہ سلام اور نماز کا رشتہ اتنی محبت  برھا دیتا ہے کہ اگر کہیں ملاقات ہو جائے تو ایسے ملتے ہیں جیسے سگے بھائی ہوں ۔۔
ادھر دفتر میں میرا معمول ہے سب سے سلام کرتا ہوں۔ جس کا اثر آج یہ ہے کہ میرے سلام کرنے سے پہلے ہی لوگ مجھے سلام کر تے ہیں۔۔ اس سلام کرنے کی عادت نے میری عزت اور توقیر میں اضافہ کیا ہے۔۔ بے شک جب آپ دوسروں پر سلامتی بھیجنے کی عادت اپناتے ہیں تو اللہ آپ کو اپنی سلامتی میں لے لیتا ہے۔۔
سلام کرنا  لوگوں کے درمیاں گڈ ول بنانے کا سب سے سہل طریقہ ہے۔۔
آج کل معاشرہ  جس بے چینی کا شکار ہے۔۔۔ اور بھائی بھائی کا اور ہمسایہ ہمسائے  کا رقیب بن چکا ہے۔۔۔ ایک طرف دولت کی حوص اور دوسری طرف مہنگائی   اور منافقت سے لبریز نظام  ۔۔۔۔جس کی وجہ سے ہم سب شقی القلب اور اپنی ہی ذات میں محصورہو  کر رہ گئے ہیں۔۔۔ ایسے میں ہر کوئی اپنی ذات میں غیر محفوظ ہے۔۔ ان حالات میں سلام کی عادت کو اپنانا  اپنے اور لوگوں کے لئے آسانیان پیدا کرنا ہے۔۔۔
ہم جب دفتر آتے ہیں یا کسی رشتے دار سے ملتے ہیں تو کچھ اس طرح ملتے ہیں
گڈ مارنگ یا ایوننگ
یا کیا حال ہیں

دوستو اس طرح کی باتوں سے اجتناب کرو۔ سلام کرو کے یہ نیکی بھی ہے، محبت بڑھانے کا ذریعہ بھی اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رضا اور حفاظت کا ذریعہ بھی۔۔

اگر تبدیلی چاہتے ہو تو یاد رکھو   تبدیلی کے بھی تیں لیول ہوتے ہیں جس میں سب سے اہم شخصی تبدیلی ہوتی ہے جس کی انتہا  خاندان  کے اطوار میں  تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔۔۔اسےبنیادی  تبدیلی کہوں گا ۔۔۔ خاندان میں آنے والی یہ اخلاقی اور فکری تبدیلی  محلے ، کالونی اور پھر  شہر اور معاشرے  میں تبدیلی کا سبب بنتی ہے۔۔۔ جب  معاشرے میں تبدیلی آ جاتی ہے تو اس کے اثرات سیاست، معیشت میں نظر آتے ہیں۔۔۔
سلام کرنا کتنا اہم ہے  ۔۔۔۔روایات میں تو یہاں تک آتا ہے کہ صحابہ کرام اجمعین سلام کرنے میں اتنے مشتاق تھے کہ اگر کہیں جا رہے ہیں اور راستے میں درخت آ گیا اور درخت کی وجہ سے جدا ہو کر وہ     دوبارہ ملنے پر  بھی ایک دوسرے کو سلام کرتے۔۔۔
کوئی شک نہیں  السلام و علیکم    کی عادت  اسلامی  معاشرے میں بھائی چارے ، اخوت اور مساوات کی بنیاد  بنتی ہے۔۔اور یہ بھائی چارا اس معاشرے کی طاقت کا باعث بنتا ہے
دوستو   آو  سلام کی عادت اپناتے ہوئے معاشرے کی طاقت کا باعث بنیں۔۔محبتیں بانٹیں اور اپنے لئے اور معاشرے کے لئے خیر اور خیر پھیلانے کا باعث بنیں۔۔۔ 

Thursday, February 02, 2012

آذان بلالی


عذاب کیا ہے؟
اللہ کی رحمت کی غیر موجودگی عذاب ہے۔
 مال و زر اور اولاد  سےبرکت کا اٹھ جانا عذاب ہے۔
دعا کا قبول نہ ہونا عذاب ہے۔
ہر وقت خوف کے سائے منڈلاتے رہنا عذاب ہے۔
 بے حس ہو جانا عذاب ہے۔۔
 زندہ جسم میں مردہ دل ہونا بھی ایک بڑا عذاب ہے۔۔
کسی نے منباء ولائیت شیر خدا ،جناب علی المرتضی سے پوچھا
ظلم کیا ہے؟
آپ نے فرمایا
چیزوں  کا اپنے مقام پر نہ ہونا ظلم ہے۔۔  

خدا ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔شاید اسی لئے جہاں ظلم ہو وہاں رحمت نہیں ہوتی۔ جہاں رحمت نہ ہو وہاں برکت نہیں رہتی ۔جہاں برکت نہ ہو وہاں بے چینی ہوتی ہے۔ اور جہاں بے چینی ہو وہاں خوف ہوتا ہے۔۔ اور جہاں خوف ہو وہاں معاشرتی بے حسی ڈیرے ڈال دیتی ہے۔۔
 اسلامی جمہوریہ پاکستان آج کل عذاب نہیں بلکہ عذابوں کا شکار ہے۔ جس کی شاید ایک وجہ پچھلے ساٹھ سالوں میں عوام، حکمرانوں اور علماء کی جانب سے روا رکھا ظلم ہے۔۔۔جس کی وجہ سے کوئی بھی اپنے مقام پر آنے کے لئے تیار نہیں۔
سیاست دان ہے۔۔ تو وہ سب کچھ ہے، مگر عوام کا خادم یہ نمائندہ نہیں۔۔ کڑوڑوں لگا کر الیکشن لڑتا ہے ۔۔ پھر   سود کے ساتھ  عوام سے پیسے وصول کرتا ہے۔۔ اور اس کمائی کو اپنا حق سمجھتا ہے۔۔ یہ حضرات پچھلے ساٹھ سال سے پاکستان کی عصمت دری کر رہے ہیں۔۔یہ ہمارے معاشرے کے وہ کمتر ترین لوگ ہیں۔۔جن کی حرص  آدھا ملک لٹانے کے بعد بھی نہیں ختم ہوئی۔ ان کی عیاشیاں اور ان کے نخرے کسی طرح بھی محمد شاہ رنگیلے سے کم نہیں۔ آج جب پوری قوم  دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔۔ بجلی ،گیس کی لوڈشیڈنگ،  بے روزگاری ، لا قانونیت عروج پر ہے۔۔ ایسے میں ان کے لئے پاکستان کا اہم تریں مثلہ این آر او، اور  حکومت بچاو یا حکومت گراو  مہم  ہے۔ اپنے ملک کے ان ناخداوں کے بارے میں کچھ اور لکھنا میرے الفاظ کی توہین ہو گی۔۔
علماء دین کا نام استمال کرتے ہیں ۔۔اور دین کے نام پر  تفرکہ پھیلانا  اپنا فرض سمجھتے ہیں۔۔ سب اپنے اپنے مسالک کی دکان لگائے ہوئے ہیں۔۔ جو خریدار نہیں ۔۔وہ ان کے نزدیق  منافق ضرور ہے۔۔۔ اللہ اللہ جس دین نے ٹوٹے دلوں کو جوڑا ۔۔آج اس کے نام پر  یہ لوگ لوگون کے دلوں میں دڑاریں ڈال رہے ہیں۔۔ گو کہ کچھ علماء ایسے بھی موجود ہیں جو آج بھی اتحاد اور رواداری  کی بات کرتے ہیں ۔۔ لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔۔
ان علماء کی ایک قسم سیاسی مولوی ہے ۔۔۔یہ سیاسی مولوی صرف آگ لگا کر دولت سمیٹنا جانتا ہے۔۔ اس کا مقصد  اسلام کی نہیں بلکہ اپنے مکتبہ فکر اور اپنی ذات کی حکمرانی ہے کیونکہ  اسلام تو دلوں کو جوڑتا ہے جبکہ ان کی سیاست توڑنے سے چلتی ہے۔۔
اس مولوی نے اسلام کو ہائی جیک کر لیا ہے۔۔۔اور آج یہ وہ واحد بڑا  سبب ہے جوسمجھدار لوگوں کو دین سے دور کر رہا ہے۔ ان کا دین میرے رسول کا اسلام نہیں ۔۔۔ میرے نبی کے اسلام میں رحمت ہی رحمت ، محبت ہی محبت ہے۔۔یہاں دین کی خاطر دنیا ،اور دنیا کی خاطر دین کو چھوڑنا ،ناپسندیدہ ہے۔۔یہاں علم کا حاصل کرنا ہر مسلم مرد و زن پر فرض ہے۔۔ یہان غور و فکر سب سے اہم عبادت ہے ۔۔۔  یہاں  کسی قسم کی تنگ نظری نہیں۔۔بلکہ حدیث کے مطابق ہر مسلمان  کو رحمٰن کا آئینہ بننے  کی دعوت ہے۔۔
ایک اور عذاب انتظامیہ ہے۔۔ یہ بھی عوام کو مسلسل عذاب میں رکھنا  اپنا فرض سمجھتے ہیں۔۔ کتنا بڑا عذاب ہے۔۔کہ وہ لوگ جو ہمارے دیئے ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں۔۔ہمارے خدا بن بیٹھے ہیں۔۔ ٹریفک وارڈن سے لے کر اوپر تک۔۔۔سب  صرف ایک کام ہی جانتے ہیں۔۔۔ عوام کی تکالیف میں کیسے اضافہ کیا جائے۔۔۔
ہمارے مال سے اور اولاد میں برکت نہیں رہی۔۔ مثلاً میں پینتیس ہزار    کے لگ بھگ کماتا ہوں مگر یہ کبھی بھی پورے نہیں پرتے۔۔  جب انڈےایک سو دس  روپے درجن اور مرغی  ڈھائی سو روپے کلو ہو۔۔تو یہ اندازہ لگانا  مشکل نہیں۔۔کہ ہمارا روپیہ کتنا مضبوط ہے۔۔۔ایسے میں وہ اکثریت جو ڈیڑھ سو تک روزانہ کما رہی ہے ۔۔اس کا کیا حال ہو گا۔۔ہم سب سمجھ سکتے ہیں۔۔ ہمارے نا خداوں نے ہمیں روٹی کمانے میں اتنا مگن کر دیا ہے کہ حق مانگنے یا اس کے متعلق سوچنے  کے لئے اب پبلک کے پاس وقت نہیں۔۔ اور اسی وجہ سے حلال و حرام کا فرق مٹ گیا ہے۔۔ جس کی وجہ سے تمام معاشرہ بے حس ہو گیا ہے۔۔
ہم اولاد پیدا کرتے ہیں۔۔مگر یہ ہی اولاد ہماری رسوائی کا سبب بنتی ہے۔۔۔جس کی سب سے بڑی وجہ پیسے کی دوڑ میں ختم ہوتی اخلاقی اقدار ہیں۔۔خود کو ماڈرن ثابت کرنے کی دوڑ میں ہم آج نہ تو مور رہے ہیں اور نہ ہی کوئے۔۔ آج ہم اپنی پہچان گنوا بیٹھے ہیں۔
۔ کیسا رسول کیسا خدا
پیسہ رسول پیسہ خدا
ان تمام عذابوں کے علاوہ کچھ عذاب وہ بھی ہیں جو ہماری کم ہمتی اور غیرت کی کمی  کی  وجہ سے امریکہ، بھارت ،افغانستان، سعودی عرب اور ایران کے روپ میں کسی نہ کسی طرح ہم پر مسلط ہیں۔
ہم  کیوں عذابوں کا شکارہیں؟
ہم وہ قوم ہیں جس کا امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر ہو رہا ہے۔۔ہر شخص نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا خدا بنا رکھا ہے۔۔ہم وہ زندہ قوم ہیں ۔۔ جس کی اکثر غریب بیٹیان ۔۔ حالات کی تنگی اور معاشرتی بے حسی کی وجہ  سے۔۔۔ جبکہ امیر بیٹیاں فیشن اور موڈرینیٹی کے چکر میں  خود کو رسوا  کرتی پھرتی ہیں۔۔۔جنھیں معاشرے کے غیور بیٹے  دولت کے نشے میں نوچتے  پھرتےہیں۔۔ ہم وہ عظیم لوگ ہیں جو تعلیم دلا کر  اپنے بیٹوں کو ڈاکو ،چور اور دہشتگرد بناتے ہیں۔۔
معاشرہ اس قدر بے حس اور تماش بین ہو چکا ہے کہ نیکی اور بدی کا فرق مٹ گیا ہے۔۔ہماری نمازیں بھی دیکھاوا ہیں ہمارے روزے بھی۔ہر کوئی گدھ ہے  جو مردار خوری کو تیار ہے۔۔ وہ کون سی ایسی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے پہلی قومیں تباہ ہوئی ہوں  اور وہ ہم میں موجود نہ ہوں؟
رسول اللہ  کے قول کے مطابق
جیسے ہم ہیں ویسے ہی ہمارے حکمران ہیں۔۔
مگر کیا  ہمارے مسا ئل کا کوئی حل ہے۔۔چند دن پہلے ایک زندہ  پاکستانی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔۔میرا گلے میں لٹکا کارڈ دیکھ کر بولا۔۔۔
سر آپ پڑھے لکھے لوگ بہت دور کی کوڑیاں لاتے ہیں۔۔ابھی تک آپ نہیں سمجھے کہ ان مسائل سے نکلنے کا واحد راستہ صرف ایک ہے۔
میں نے پوچھا وہ کیا؟
تو بولا۔ وہ یہ ہے کہ تمام قوم میدانوں میں نکل آئے۔۔اور رو رو کر اللہ سے معافی مانگے۔۔اور وعدا کرے کہ
فکری ،معاشرتی اور سیاسی بت  پرستی چھوڑ دیں گے ۔۔ ہم سب اپنے مقام کو پہچان کر اور اس پر آ کر  اپنے فرائض ادا کریں گے۔۔ وہ رب جو قوم  یونس علیہ السلام کو آخر وقت میں معاف کر سکتا ہے۔۔ یقیناً وہ ہمیں بھی معاف کر دے گا۔۔۔
یارو پاکستان عزیز ہے تو صرف باتوں سے کچھ نہیں بدلے گا۔۔ہمیں دیئے  سے دیا  جلانا ہو گا۔۔  اپنے مردہ نفسوں کو زندہ کرنا ہو گا۔۔۔ تاریخ  سے سبق سیکھتے ہوئے۔۔عدل اور انصاف کے لئے کام کرنا ہو گا۔۔اور سب سے بڑھ کر اپنے اندر اسواء رسول  کو قائم کرتے ہوئے جاگنا اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کو جگانا ہو گا۔۔
اک موج مچل جائے تو طوفان بن جائے
اک پھول اگر چاہے تو گلستان بن جائے
کسی مسیحا  کا انتظار  بے وقوفی ہے۔ ہمیں اپنے حصہ کا کام خود کرنا ہو گا۔۔تبدیلی آئے گی۔۔مگراس کے لئے  فرد واحد کو پہلے بدلنا ہو گا۔۔ ایک نفس بدلے گا تو گویا ایک کائینات بدل جائے گی۔تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے شروع ہو گا۔۔اور بھر خود بہ خود پورا پاکستان بدل جائے گا۔۔ سو میل بھی جانا ہو تو پہلا قدم ہی فیصلہ کن ہوتا ہے۔۔ مشکل تو بہت ہے مگر  ہم کر سکتے ہیں۔۔آو  خود کو بدلتے ہوئے پاکستان بدل ڈالیں
اپنے حصے کی شمع روشن کریں ۔۔آزان دیں باقی جو اللہ چاہے۔۔۔