کہتے ہیں بغداد میں ایک متمول تاجر رہتا تھا۔۔ اس تاجر نے ایک طوطا پالا ہوا تھا جس سے یہ بہت محبت کرتا۔۔ طوطے کو بھی اپنے مالک سے بہت محبت تھی ۔۔لیکن غم صرف ایک تھا اور وہ غم تھا پنجرے کی قید۔۔۔ ایک دن تاجر کہیں جا رہا تھا ۔۔اور راستے میں طوطے کا آبائی علاقہ بھی آتا تھا۔۔وہی علاقہ جہان سے اس طوطے کو پکڑا گیا تھا۔۔
سوداگر نے طوطے سے پوچھا کہ وہ اس کے علاقے سے گزرے گا۔۔اگر طوطا چاہے تو وہ کوئی پیغام اپنے عزیز رشتہ دارون تک۔۔ اس کے ہاتھ بھیج سکتا ہے۔۔
طوطے نے سوداگر کی اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے سوداگر سے کہا ۔۔۔ مالک میرے علاقے میں جا کر میرا نام لے کر میرے عزیزوں کو آواز دینا۔۔ جب وہ آ جائیں تو انھیں بتانا کہ میں آپ کے پاس بہت خوش ہوں ۔۔۔لیکن۔۔ صرف ایک تکلیف ہے۔۔ اور وہ تکلیف ہے پنجرے کی قید۔۔۔ پھر میرے عزیزوں کو میرے لئے دعا کا کہنا۔۔۔ اور جو پیغام وہ میرے لئے دیں وہ مجھے آ کر بتا دینا۔۔۔
سوداگر نے طوطے سے پیغام پہنچانے کا وعدہ کیا ۔۔ اور رخت سفر باندھا۔۔۔
جس روز وہ اپنے پیارے طوطے کے علاقے میں پہنچا اس دن طوطے کے بتائے طریقے کے مطابق طوطے کا نام لے کر اس کے عزیزوں کو آواز دی۔۔
کچھ ہی دیر میں درجنوں طوطے قریب کے درختوں پر آ کر بیٹھ گئے۔۔ سوداگر نے طوطے کا پورا پیغام سنایا ۔۔ طوطے کے لئےدعا کی درخواست کی۔۔۔ ابھی وہ بات پوری کر ہی رہا تھا کہ یکا یک تمام طوطے اپنی ڈالیون سے گرنا شروع ہو گئے۔۔ اور کچھ ہی دیر میں تمام طوطے گر کے مر گئے۔۔۔
سوداگر کو بہت افسوس ہوا۔۔خیر کام ختم کیا اور واپس بغداد پہنچا۔۔۔ طوطے نے جب پوچھا کہ میرے رشتہ دارون نے کیا نصیحت کی ۔۔ تو سوداگر نے پورا واقعہ بیان کر دیا۔۔۔
طوطے نے واقعہ سنا اور غش کھا کر گرا اور وہ بھی جیسے مر گیا۔۔
تاجر کو بہت افسوس ہوا ۔۔مگر کیا کر سکتا تھا۔۔ مردہ طوطے کو اٹھایا اور باہر پھینک دیا۔۔۔
پھینکنے کی دیر تھی ۔۔طوطا اڑا ۔۔اور اڑ کر سامنے کی دیوار پر بیٹھ گیا۔۔۔ تاجر نے حیرت سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے۔۔
طوطا بولا ۔۔۔گو کہ آپ نے ہمیشہ میرا خیال رکھا اور مجھے خوش رکھنے کی کوشش کی ۔۔لیکن میں قید تھا۔۔۔ اور اس قید نے مجھے اندر سے ختم کر دیا تھا۔۔میں اپنی نہیں بلکہ آپ کی مرضی کی زندگی جی رہا تھا۔۔۔ میرے عزیزوں نے آپ کے ذریعے مجھے یہ ہی پیغام بھیجا کہ اگر میں مر جاوں تو آپ کی قید سے آزاد ہو جاون گا۔۔ کیونکہ جب تک زندہ رہوں گا آپ مجھے کبھی آزاد نہیں کریں گے۔۔۔ میں نے اپنے عزیزوں کے عمل کےمطابق عمل کیا اور اب دیکھیں میں آ زاد ہوں ۔۔۔ اب جتنی باقی زندگی رہ گئی ہے وہ آزادی سے گزرے گی۔۔۔
انسان زمان و مکان کی قید میں زندگی گزارتا ہے۔۔ یہ قید اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ زندگی کے ڈرامے کو سمجھنے کی بجائے وہ اس میں اس قدر کھو جائے کہ اسے یہ ادراک ہی نا رہے کہ اسے ایک دن ختم ہونا ہے۔۔ لیکن ایسا ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتا۔۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ایک مقام پر پہنچ کر انھیں سمجھ آ جاتی ہے کہ اس کا رول بھی ایک دن ختم ہو جائے گا۔۔ لیکن زمان و مکان کی یہ قید اتنی سہانی لگتی ہے۔۔۔ کہ جانتے ہوئے بھی ۔۔۔۔۔ وہ اس قید کی، اپنے لئے بقا مانگتے ہیں۔۔
دنیا کیا ہے؟
دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔۔ جہان ہم زندگی کا امتحان دے رہے ہیں۔۔ یہ امتحان ہم قید میں رہ کر پاس تب ہی کر سکتے ہیں جب نتیجے سے متعلق ہمیں پورا یقین ہو۔۔ ہم مسلمان ہیں جزا اور سزا پر ۔۔کہنے کو تو یقین رکھتے ہیں۔۔ لیکن عمل کرتے ہوئے نتیجہ سے زیادہ ہمارے لئے وہ لمحہ اور زمان و مکان کا وہ پوائینٹ اور ہمارے عمل کے قلیل مدتی فوائید ہمارے لئے زیادہ اہم ہو جاتےہیں۔۔ ان فوائید کا حصول ہمارے لئے ابدی نتیجے سے زیادہ اہم بن جاتا ہے۔۔
یہ ہی وجہ ہے کہ ہم زندگی کی طوالت مانگتے ہیں۔۔ اور موت سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔ امتحان میں رہنا محبوب رکھتے ہیں جبکہ نتیجے اور نتیجے کے بعد کی ابدی حیات کو صرف ایک خیال تصورکرتے ہیں۔۔
چونکہ ہم اس سٹیج کو حقیقت اور خاتمے کو خیال جانتے ہیں اس لئے ہماری زندگیاں کمیوں سے بھری رہتی ہیں۔۔۔ ہماری عبادات رسموں کی تکمیل سے زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ ان عبادات کا مقاصد ۔۔ ہم جانتے ہوئے بھی جاننا نہیں چاہتے۔۔ کیونکہ مقاصد کی تکمیل میں نفس کی آرزوں کی تکمیل آرے آتی ہے۔۔
کہتے ہیں کتا ہڈی کھاتا نہیں۔۔ وہ ہڈی کو دانتوں میں دباتا ہے تو اس کے مسورے پھول جاتے ہیں۔۔ وہ جب بار بار ہڈی کو دباتا ہے تو اسے ایک سیڈسٹک سی درد ہوتی ہے اور وہ اسی درد کے نشے میں ہڈی دباتا رہتا ہے۔۔۔ ہمیں دنیا میں، اس زندگی میں ہر موڑ پر نئے امتحان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔ لیکن ہم اکثر باطل کی ہڈی صرف اس لئے چباتے ہیں کہ ہمیں سیڈسٹک درد کا نشہ لگ چکا ہوتا ہے۔۔ دنیا نے ہمیں اس قدر مصروف کر دیا ہوتا ہے کہ آخرت خواب لگتی ہے۔۔ ہمیں اس دنیا کی رنگینیاں اتنی بھاتی ہیں کہ اعمال کی لگن ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ ہم لمحے میں جینا پسند کرتے ہیں ۔۔جیسے اس کے بعدکوئی لمحہ نہیں آنا ۔۔
دنیا کو ایک ٹانزٹ یا گزر گاہ کہا گیا ہے۔۔ جو منزل کی سمت ایک مقام ہے۔۔ مقام منزل نہیں ہوتا ۔۔ جو مقام کو منزل سمجھ بیٹھتے ہیں وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ۔۔ اسی لئے تو صوفیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔ مرنے سے پہلے مر جاو۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ ظاہری موت تکلیف نہیں بلکہ کا میابی کا پیغام بن کر آئے۔۔مرنے سے پہلے مرنے کا مطلب ہے کہ اپنے نفس کو نفسانی خواہشات سے پاک کرنا لینا اور اسے اللہ کی پسندیدہ راہ پر لے آنا تاکہ عبادات کے مقاصد پورے ہوں۔ عبادت کا حق ادا ہو۔ اور زندگی کی رونقین کسی صورت میں منزل یعنی بندگی سے غافل نا کر سکیں۔۔۔











